مسلمانوں میں فکری زوال: حقیقت یا مفروضہ

pexels-alena-darmel-8164804
Listen to this article

کیا درحقیقت مسلمانوں میں فکری زوال ہے یا يہ ایک مفروضہ ہے ۔عروج وزوال اللہ کے ہاتھ میں جس کو چاہے عروج وترقی عطاء کرے اور جس کو چاہے زوال و تنزلی سے دوچار کرے ، لیکن یہ دنیا دار الاسباب ہے اور اللہ تعالی نے بغیر اسباب کے چیزوں کوبروئے کار لانے پر قدرت کے باوجود ہر چیز کو کسی نہ کسی سبب سے جوڑدیاہے اور اس دنیا میں ساری چیزیں اسباب کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وتعزمن تشاء و تذل من تشاء، یعنی اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے اس کو عزت عطاء کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل اور رسوا کرتا ہے لیکن اس کے پیچھے کچھ عوامل و اسباب کا م کرتے رہتے ہیں ۔

اگر ہم مسلمانوں کی زوال کی بات کریں تو یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے بلکہ تقریبا ۵۰۰ سالوں سے مسلمان پسماندگی اور ذلت کا شکار ہیں اور اس کا کوئی ایک سبب نہیں بلکہ بہت سارے اسباب ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو اس صورت حال تک پہونچا دیا ۔ سب سے اہم اور بنیادی چیز احکام خداوندی سے گریز اور مسلمانوں کا غوروفکر اور تدبر و تفکر کو ترک کرنا ہے ۔آج مسلمانو ں میں فکری زوال سب سے زیادہ ہے اور اگر آپ ان سے بات کریں تو الٹے میں وہ آپ کو سنانے لگیں کے حتی کہ وہ متکلم کو اسلام مخالف سمجھنے لگتے ہیں اور نہ جانیں کیا کیا ۔

مسلمانوں میں فکری زوال ہے اور جب کسی قوم میں فکری زوال آجائے تو وہ ہر اعتبار سے مغلوب ہو جاتی ہے ۔یہاں پر میں عوام کی بات نہیں کررہا ہوں بلکہ خواص بھی فکری زوال کے شکار ہیں اور ترقی کا دار مدار خواص کے نظریات اور ان کی فکری بلندی پر منحصر ہے ،لیکن خواص کو کون سمجھائے اگر کوئی ان سے اس موضوع پر با ت کرے تو وہ سننے کو تیار نہیں اور سمجھتے ہیں کہ سب کچھ صحیح ہے اور ہم اللہ کے فیصلہ کو تبدیل نہیں کرسکتے۔حضرت کون آپ سے درخواست کررہا ہے کہ آپ اللہ کے فیصلہ کو تبدیل کریں ، اللہ کے فیصلہ کو تو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ، حضرت والا ہم آپ سے التماس کرتے ہیں کہ خدا را آپ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کیجئے ، آپ تو امت میں اتحاد و اتفاق کی بات کرتے ہیں لیکن جب خود آپ خواص میں اتحاد نہیں تو عوام میں اتحاد کیسے ؟؟ سب لو گ امت کے نام پراپنا اپنا دکان چلا رہے ہیں اور امت سے یہ امید کرتے ہیں کہ امت متحد اور متفق ہو یہ نہیں ہو سکتا اور یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے ، مثال کے طور پر آپ جمعیت علمائے ہند کو لے لیجئے نام ہے جمعیت اور کام ہے تفریق ۔ہاں یہ صرف جمعیت علمائے ہند کی ہی بات نہیں ہے بلکہ آپ دوسری تنظیموں کو بھی دیکھ سکتے ہیں ان کی صورت حال بھی یہی ہے ۔بلا شک جمعیت کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے لیکن آج کے ہمارے قائدین جمعیت کے نام کو بدنام کررہے ہیں اور یہ فکری زوال کی ایک مثال ہے ۔

فکری زوال کیا ہے ؟فکری زوال ھو تغیر الحالۃ الفکریۃ من القوۃ الی الضعف۔فکری زوال کوئی بری بات نہیں ہے کیوں کہ یہ دنیا حادث ہے اور اس میں ہر چیز تغیر پذیر ہے کبھی ترقی سے تنزلی کی طرف اور کبھی تنزلی سے ترقی کی طرف۔ہاں جو چیز بری ہے وہ زوال سے نکلنے کی کوشش نہ کرنا اور یہ سمجھنا کہ اللہ تعالی روح القدس کو بھیجیں گے اور وہ ان کو فکری زوال سے نکالیں گے۔اللہ تعالی اگر چاہیں تو وہ روح القدس کو بھی بھیج سکتے ہیں یا اس کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتا ہے ، لیکن ارشاد خداوندی ہے : لیس للانسان الا ما سعی ، انسان جیسا کوشش کرتا ہے اللہ تعالی اسی کے مطابق اس کو پھل دیتا ہے ۔اسی لئے میں خواص حضرات اور قائدین سے التماس کرتا ہوں کہ برائے مہربانی اس کی طرف بھی توجہ کریں اور امت مسلمہ میں فکری بیداری پیدا کریں اللہ تعالی ان کو جزائے خیر عطاء فرمائے( آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll