مغربی نظریات اور امت مسلمہ

pexels-thirdman-8489272
Listen to this article

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : خذ ما صفا ودع ماکدر ، اگر ہم اس حدیث پر غور کریں تو یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر اچھی بات کو لینے اور اس کو اپنانے کا حکم دیا ہے ۔ ارشاد سرور کائنات ہے : کلمۃ الحکمۃضالۃ المومن حیث وجدھا فھو احق بھا، اس حدیث شریف سے بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حمکت و فلسفہ اور اچھے افکار ونظریات کو دوسری قوموں سے لینے میں کوئی قباجت نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمارہے ہیں کہ جہاں سے بھی حکمت و فلسفہ کی بات ملے اس کو اختیار کرو اور امت مسلمہ اس بات کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ وہ کلمات حکمت کو اپنائے۔

امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حمکت وفلسفہ کو اختیار کرے اور اس کو اپنائے اور اس طرف دھیان نہ دے کہ وہ آراء وافکارو نظریات مغربی ہیں یا مشرقی یا کوئی اوردوسرے آراء وافکار۔ہاں حکمت وفلسفہ اور عمدہ افکار ونظریات کو اختیار کرنا ارو دوسری قوموں سے لینا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔جب ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور خاص طور سے تاریخ خلافت عباسیہ کی ورق گردانی کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے ہم نے رومی،فارسی ،ہندوستانی اور دیگر قوموں سے بہت سارے افکار ونظریات اخذ کئے ہیں۔

جب ہم خلافت عباسیہ میں ترجمہ تحریک پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے ترجمہ کے ذریعہ بہت سے آراء وافکار دوسری قوموں سے اخذ کئے ہیں اور ان کو ہم نے اسلامی رنگ میں رنگ دیا۔جب ہم اپنے ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں بہت فخر محسوس ہوتا ہے اور ہم اپنا ایک تابناک اور روشن ماضی پاتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ دوسری قوموں سے آراء و افکار کا اخذ کرنا ہے ۔جب ہم ماضی میں دوسروں کے افکار سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اور ان کو اخذکر چکے ہیں تو آج کیوں ہم اس کو اختیار نہیں کر سکتے۔

دور حاضر میں یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم مغربی فکر و فلسفہ سے استفادہ کریں اور حکمت کی باتوں کو اختیار کریں اور اس پر عمل کریں ، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کچھ نظریات و افکار اسلامی افکار ونظریات سے ہم آہنگ نہ ہوں ، تو جوافکار اسلامی عقائد اور نظریات کے خلاف ہوں ہم اس کو پڑھیں سمجھیں اور غور کریں کہ ان کی بنیاد کیا ہے اور وہ غلط کیسے ہیں اور ان کے غیر اسلامی ہونے کوواضح کریں ،نہ یہ کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ر ہیں اور مغربی افکار ونظریات سے پرہیزکریں اور اہل مغرب کو کوستے ر ہیں۔

جب تک ہم ان نظریات کی چھان بین نہیں کریں گے توہمیں پتہ نہیں چل پائے کا کہ آیا درحقیقت وہ نظریات وافکار اسلامی عقائد اور ایمانیات کے لئے تباہ کن ہیں یا نہیں ، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم مغربی افکار و نظریات اور فلسفہ کو باریک بینی سے مطالعہ کریں اور ان کے صحیح یا غلط ہونے کوواضح کریں ، امت مسلمہ کو مغربی افکار ونظریات سے اجتناب نہیں بلکہ ان میں دلچسپی لینی چاہئے۔

One thought on “مغربی نظریات اور امت مسلمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll