مدارس اور تجديد

darul-uloom-deoband
Listen to this article

اگر ہم موجودہ دور میں سائنس کی تعلیم اور اس کی ترقی پر نظرڈالتے ہیں تو یہ بات روز وروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ آج کے دور میں سائنسی علوم کو حاصل کئے بغیر ہم دنیا کے حالات اور روزمرہ کی زندگی کو آسانی سے نہیں سمجھ سکتے۔رہی بات دینی مدارس میں سائنس کی تعلیم اور اس کو نصاب میں شامل کرنا تو یہ وقت کا تقاضا اور ہمار ی ضرورت ہے کیوں کہ مدارس سے علماء اور فضلاء پیدا ہوتے ہیں اور وہ امت مسلمہ کی رہنمائی کرتے ہیں اور صحیح رہنمائی کے کئے عقل وفہم اور علم و معرفت کی ضروت ہوتی ہے۔اور یہ بات مسلم ہے کی ایک عالم کو اپنے اطراف کے افعال واعمال اور ہر چیز پر گہری نظر ہونی چاہئے اسی لئے کہا جاتا ہے کے العالم ھو بصیر بزمانہ اور بصارت ودور اندیشی بغیر زمانہ کو جانے پیدا نہیں ہو سکتی۔

یہ صرف سائنسی علوم ہی کی بات نہیں ہے بلکہ اور بھی ایسی چیزیں ہیں جس میں اصلاح اور تجدید کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ وہ اپڈیٹ چیزوں کو استعمال کرے مثال کے طور پر موبائل ہی کو لے لیجئے کوئی پرانا ماڈل استعمال نہیں کرنا چاہتا تو پھر نصاب میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کیوں نہیں ہو سکتی ہے؟؟ یقیناً تبدیلی کی ضرورت ہے اور تبدیلی ممکن بھی ہے اور کی بھی جا سکتی ہے ۔ ہم مدارس کے نصاب میں کچھ نئے مضامیں کا اضافہ کر سکتے ہیں اور پرانے مضامیں میں اصلاح کرسکتے ہیں اور نصابی کتابوں کے ڈھانچہ میں بھی کچھ تبدیلی کر سکتے ہیں مثال کے طور پر ہم پرانی کتابوں میں اسباق کا اضافہ کر سکتے ہیں اس میں سوالات و جوابات کا اضافہ کر سکتے ہیں وغيره ۔

ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ان امور کو انجام دینے اور ان چیزوں کی تجدید و اصلاح میں کچھ دشواریاں پیش آئیں گی اگر ہم چند دنوں اور مہینوں کی دشواریوں کو برداشت کر لیں کے تو بہت حد تک یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے کھوئے ہوے وقار کو دوبارہ حاصل کرلیں۔یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ہے جتنا لگ رہا ہے لیکن اتنا مشکل بھی نہیں کہ ہم اس کو انجام تک نہ پہونچاسکیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ چند با شعور اور دانشور علمائے کرام اس کام کے لئے ہمت کریں اللہ تعالی ضرروبالضرور ان کی مدد فرمائے گا اور امت مسلمہ کے اوپر یہ بہت بڑا احسان ہوگا۔

یقیناً آج کے دور میں سائنسی علوم کی ضروت بڑھ گئی ہے اگرہم اس کو حاصل نہیں کریں گے تو بسا اوقات اس سے جہالت کی وجہ سے ہم قرآن و حدیث کی غلط تشریح و تفسیر بھی کریں گے اور خود بھی بھٹکیں گے اور دوسروں کو بھی بھٹکائیں گے اس لئے علماء کرام سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ خدا کے لئے ان امور پر ضرور بالضرور توجہ فرمائیں اور علماء کی ایک ایسی جماعت پیدا کریں جیسا کہ پہلے ہوا کرتے تھے اللہ تعالے ہم لوگوں کو اس نیک عمل کے لئے قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو اس کی گم شدہ دولت سے مالامال کرے (آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll