اسلامی نقطۂ نظر سے علم کی تقسیم

pexels-abby-chung-1106468
Listen to this article

اسلامی نقطۂ نظر سے علم کی دینی اور دنیوی تقسم بے معنی ہے اور اسلام میں اس تقسیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،علم بذات خود نہ تو دینی ہے اور نہ ہی دنیاوی آدمی اس کو اپنے قول وفعل سے دینی یادنیاوی بنا دیتا ہے ۔اگر ہم غور کریں تو علم فقہ دنیوی علم ہو سکتا ہے او ر علم طب دینی علم ہو سکتا ہے اور وہ اس طرح سے کہ اگر کوئی شخص علم فقہ حاصل کرنے کے  بعد اس سے دنیوی منفعت حاصل کر رہا ہے تو علم فقہ دنیوی علم ہوجائے گا اور اگر کوئی طبیب علم طب کو دوسروں کو فائدہ پہونچانے کے لئے استعمال کر رہا ہے تو علم طب دینی علم ہوجائیگا۔

اگر اسلامی نقطۂ نظر سے علم کی تقسیم کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ علم کی دو قسمیں ہیں علم نافع اور علم ضار جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: اللھم انی أسألک علما نافعا و اعوذبک من علم لا ینفع، یہ حدیث صراحتا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے علم کی تقسیم دینی اور دنیوی نہیں بلکہ نافع اور ضار ہوگی۔مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ علماء کرام نے کس بنیاد پر علم کی تقسیم دینی اور دنیاوی کردی، ہاں اس تعلق سے بہت ساری توضیحات پیش کی جا سکتی ہیں لیکن وہ توضیحات اسلامی تصور علم سے ہم آہنگ نہ ہوں گی۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ علم جو نافع ہو اور جس سے دسروں کو نفع پہونچا سکتے ہیں وہ علم دینی علم ہوگا اور جس علم سے دوسروں کو نقصان ہو اور لوگوں کو اس سے ضرر لا حق ہو تو وہ علم غیر دینی اور ضار ہوگا۔کسی بھی علم میں بذات خود نفع یا ضرر پہونچانے کی صلا حیت نہیں ہوتی ہاں صاحب علم اس کو نافع یا ضار بنا دیتا ہے ، حتی کہ میں علم سحر اور جادو ٹونا کو بھی دنیوی علم نہیں مانتا جب تک کہ اس سے اچھے کام لئے جائیں اور لوگوں کی مدد کی جائے نہ کہ ان کو پریشان کیا جائے۔علم کی مثال اس دودھاری تلوار کی طرح ہے جس سے صاحب تلوار کسی کا قتل کر دیتا ہے اور کسی کو بچا لیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll