ہندوستان اور قرآن کریم کے تراجم

pexels-rdne-stock-project-7249191
Listen to this article

قرآن کریم کو مذہب اسلام میں بنیادی درجہ حاصل ہے اور یہ ایک الہامی اور منزل من الله کتاب ہے۔ اس کتاب کو الله نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ پر وحی کی صور ت میں نازل فرمایا۔ یہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا اور اسلام کے پھیلنے کے ساتھ الگ الگ علاقوں میں پہونچا اور جب دیں اسلام عرب سے نکل کر دنیا کے دوسری جگہوں میں پھیلا تو اسلام کو سمجھنے کے لیے وہاں کے لوگوں کو ان کی مادری زبان میں قرآن کے ترجمے کی ضرورت پیش آئ اور اسی مقصد کے لیے دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ اردو میں قران کا ترجمہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ایک انوکھا روپ اختیار کر لیا جس کا مختصر تعارف حسب ذیل ہے.

قرآن کریم کے ترجمہ کا کام نہایت ہی ضروری مگر بہت ہی نازک عمل ہے، اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس پر مسلسل کام ہوتا رہے تاکہ اس میں غلطی کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے، قرآن کریم اللہ کا کلام ہے جو ہر کمی کوتاہی سے پاک ہے، اور اس کو سمجھنے اور دوسری زبان میں ترجمہ کے لئے مختلف علوم و فنون کا جاننا لازم ہے؛ تاہم اس کا ترجمہ ایک انسانی کوشش ہوتی ہے، اور انسانی کوششوں میں غلطیوں کا امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے، اسی لئے ضروری ہے کہ اس کے ترجمہ کا بار بار گہرائی اور باریک بینی سے جائزہ لیا جاۓ تاکہ غلطیوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس کے ترجمہ کے جائزہ لیتے وقت نہ کسی طرح کا احترام مانع ہونا چاہئے اور نہ کوئی نسبت حائل ہونی چاہئے، اور سب سے عمدہ یہ ہوگا کہ ترجمہ قرآن کا کام اجتماعی طور پر اکیڈمی کی سطح پر اور متعدد بار متعدد ماہرین لغت کی نظر سے گذرنے کے بعد قابل اشاعت سمجھا جائے، اور بعدِ اشاعت بھی نظر ثانی کا کام جاری رکھا جاۓ۔ لیکن اردو کے تراجم قرآن کے ساتھ ایسا اہتمام نہیں ہوسکا اور بغیر کسی سرپرستی کے عام طور سے یہ کام انفرادی طور پر ہوتا رہا، اسی وجہ سے غلطیوں کا امکان کسی نہ کسی حد تک ہر ترجمہ میں موجود ہوتا ہے۔

علامہ سیوطی کی قائم کردہ شرائط کی روشنی میں مترجم قرآن کی ذمہ داری مفسر قرآن سے بھی زیادہ سخت نظر آتی ہیں کیونکہ تفسیر میں مفسر ایک لفظ کی شرح میں ایک صفحہ بھی لکھ سکتا ہے مگر ترجمہ قرآن کرتے وقت عربی لفظ کا ترجمہ ایک ہی لفظ سے کرنا ہوتا ہے اس لئے مترجم قرآن کا کسی بھی زبان میں ترجمہ منشائے الٰہی کے مطابق یا اس کے قریب قریب کرنا مشکل ترین کام ہے۔ البتہ تمام شرائط کے ساتھ ترجمہ قرآن اس وقت ممکن ہے کہ جب مترجم قرآن تمام عربی تفاسیر، کتب احادیث، تاریخ، فقہ اور دیگر علوم و فنون پر دسترس کے ساتھ ساتھ عربی زبان و ادب پر مکمل عبور رکھتا ہو اور وہ ایک عبقری شخصیت کا حامل ہو ساتھ ہی مترجم قرآن کتاب اللہ کو عربی زبان میں سمجھنے کی حد درجہ صلاحیت رکھتا ہو تب ہی ترجمہ قرآن منشائے الٰہی اور فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب تر ہو گا

ہندوستان میں اردو تراجم قران پر ایک نظر

ہندوستان میں اردو تراجم قران کا آغاز مسلمانوں کے ہندوستان میں آمد کے بہت بعد ہوا، یوں تو ہند اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات بہت پرانے ہیں لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کی باقاعدہ آمد محمد بن قاسم کی فوج کے ساتھ ہوئی اور انہوں نے سندھ کے ایک بڑے علاقے پر اسلامی حکومت قائم کرلی تھی مگر محمد بن قاسم سے قبل عرب تاجروں کے قافلے یہاں آتے تھے اور انکی وسا طت سے یہاں کے عوام اسلام سے واقف ہورہے تھے لیکن قرآن کی تعلیم یا اس کے پیغام کو یہاں کے عوام تک پہونچانے کا کوئی منظم منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کی طرف دھیان دیا گیا۔ مزید براں طباعت واشاعت کی صنعت بھی ترقی یافتہ نہیں تھی۔ نیز قرآن کے متن اور مفہوم میں تحریف اور تبدیلی کا خوف بھی علما کو قرآن کے ترجمے میں پہل کرنے میں پس وپیش کا باعث بن رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ بارہویں صدی عیسوی سے ہندوستان میں مسلم حکومتوں کا دور شروع ہوجانے اور اولیاء اللہ کی ہندوستان میں آمد کے باوجود قرآن کریم کا ترجمہ ہندوستان کی کسی مقامی زبان میں نہین ہوا۔ اور یہ دور وہ دور تھا جب اردو زبان اپنے ابتدائی مرحلے میں تھی اور عربی، فارسی، سنسکرت اور دیگر زبانوں کے الفاظ سے ایک مخلوط زبان وجود میں آرہی تھی جسے پہلے ہندوی اور پھر بعد میں اردو کا نام دیا گیا۔ بادشاہ ہند شاہ جہاں کے دور میں اردو ایک نمایاں شناخت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور اردو میں مذہبی اور صوفیانہ لٹریچر دستیاب ہونے لگا۔ مگر اب بھی قرآن کے اردو ترجمے سے علما ء قرآن کے متن کے تقدس و تحفظ اور اس میں غیر شعوری تبدیلی و تحریف کے خوف سے بھی پرہیز کرتے رہے۔

سب سے پہلے اس عظیم کام کے لئے شاہ مراد انصاری سنبھلی تیار ہوئے اور انہوں نے سنہ ١٧٧١-٧٢ میں  پارہ عم کی چھوٹی چھوٹی وآیتوں کا اردو میں ترجمہ کیا اور ان کی تفسیر لکھنے کی پہل کی اور انہوں نے اس تفسیر کا نام “خدائی نعمت” رکھا۔ سب سے پہلے قرآن کریم کا پہلا اور مکمل اردو ترجمہ شاہ ولی اللہ رحمہ الله کے صاحبزادے شاہ رفیع الدین نے کیا جو سنہ ١٧٨٥ میں شائع ہوا۔ شاہ رفیع الدین نے بھی قرآن کے ترجمے کا وہی طریقہ اپنایا جو شاہ مراد سنبھلی نے اپنایا تھا۔ لہذا، قرآن کے لفظ بہ لفظ ہوئے اور متنی ترجمے کی روش ہی معیار ٹھہری ۔

اس نوع کے ترجمہ میں اردو کے جملوں کا خیال نہیں کیا جاتا بلکہ قران کریم کے الفاظ کا خیال رکھا جاتا جس کی وجہ سے اردو جملوں کی اجزائے ترکیبی کی ترتیب بدل جاتی۔ فعل اسم یا فاعل سے پہلے آجاتا اور حرف جار کی ترتیب بھی بدل جاتی۔ اس سے قاری کو اکثر آیتوں کا مفہوم سمجھنے میں مشکل پیش آتی ۔ قرآن کے اردو ترجمہ کے اسی طریقے کو بنیا د بناکر اردو کے طنز و مزاح نگار ملا رموزی نے مزاح نگاری کا ایک نیا اسلوب ایجاد کیا تھا جسکو گلابی اردو کا نام دیاگیا۔ انہوں نے مضامین اسی طریقے پر لکھے جس پر قرآن کے تراجم لکھے جاتے ہیں ۔ ملا رموزی کی گلابی اردوکا ایک نمونہ پیش ہے:

“اماں بعد! اے محترم مفت کی کتابیں پڑھنے والو! کیا مگر اچک لے گیا شیطان راندہ ہوا عقلوں درجہ سوم تمہاری کا ۔ یا نہ رہی غیرت بیچ دلوں سے تہماری کے کہ پڑھتے ہو کتابیں تم مانگ کر دوستوں سے بھی ، محلے والوں سے مگر نہیں شرماتے تم، پس قسم ہے اس بے شرمی تمہاری کی کہ گالیاں دیتاہے تم کو پیچھے تمہارے وہ شخص کہ مانگ کر لائے تم کتاب جس سے پس اگر باقی ہے بیچ دل ودماغ تمہارے کے حرارت تو خود خردی کر پڑھا کرو تم کتابیں ، موافق پسند اپنی کے کیونکہ البتہ تحقیق ہے یہ کام برا، پس دور رہو تم اس سے اور جو نہیں ہوسکتے ہو یا نہیں ہو سکتی ہو تم خریدنا مبلغ کتاب کا بہ سبب افلاس اپنے کے تو صبر ہی بہتر ہے واسطے تہمارے کیونکہ نہیں ہے اور البتہ تحقیق نہیں ہے ضروری یہ کہ فروخت کی جائے غیرت بدلے کسی کتاب کے جیسے فروخت ہورہی ہے غیرت اور حیا ہندوستانیوں کی ذریعہ نئے تمدن اور نئی تہذیب کے پس کیا نہ دیکھا تم نے اے شاگرد نیک بخت کہ چلتی ہیں اوپر سڑکوں ٹھنڈی کے ہندوستان زادیاں اٹھاکر سینہ اپنا ساتھ طریقوں یورپ مگر بے خبر ہیں وہ رسوائی اپنی سے مگر اے عجب ماں باپ اسی مسما ۃُ کے ۔ پس ہو تم رکھنے والے عقل سلیم اور مذاق علمی کے تو خریدار پہنچاؤ ہم کو اس کتاب کے ساتھ کثرت سے زیادہ کے تا دن حشر کے نجات پاؤ تم تعزیرات ہند اور پریس ایکٹ سے بھی ، محل موتیوں کے ملیں تم کو بھی کہ جب لطف اٹھاتے ہو تم کتاب ملا رموزی کی تو لفف پہنچاآ تم خریدار زیادہ سے ملا رموزی اپنے گھر کے .”

شاہ رفیع الدین کے بعد شاہ ولی اللہ کے چوتھے فرزند شاہ عبدالقادر نے بھی قرآن مجید کا ترجمہ کیا اور انہوں نے اس کا نام “موضح القرآن” رکھا۔ انھوں نے ترجمے میں کچھ اجتہادی رویہ اپنایا اور اپنے بھائی کے لفظ بہ لفظ ترجمے کے طریقے سے تھوڑا بہت ہٹ کر اردو کے اسلوب میں ترجمہ کیا۔ وہ کہتے تھے کہ ترکیبِ ہندی (اردو) ترکیبِ عربی سے بہت بعید ہے ۔ شاہ عبدالقارکے ترجمے کا نمونہ پیش ہے ۔

” ٹوٹ گئے ہاتھ ابی لہب کے اور ٹوٹ گیا وہ آپ۔ کام نہ آیا اس کو مال اس کا اور نہ جو کمایا۔ اب بیٹھے گا ڈیگ مارتی آگ میں اور اس کی جورو سر پر لئے پھرتی ایندھن ۔ اس کی گردن میں رسی مونج کی۔ “

لیکن وہ بھی وہ اس راہ پر زیادہ دور نہیں چل سکے غالباً متن کے تقدس کا خیال انہیں بھی ترجمے کے اس طریقے کو پوری طرح چھوڑنے کو تیار نہ کرسکا۔ جیسا کہ مندرجہ بالا ترجمے سے ظاہر ہو رہا ہے۔

بییسویں صدی تک قرآن کے اردو کے ترجمے کے فن نے ارتقا کا ایک لمبا سفر طے کیا ہے اور معنوی طور پر قرآن کے اردو ترجمے میں بہت بہتری دیکھنے کو ملا. مگر اب بھی قرآن کے ترجمے کا لفظ بہ لفظ ترجمے کا طریقہ اپنایا جاتا رہا جبکہ انگریزی تراجم میں انگریزی کے نحوی ساخت کو ہی اپنایا جاتا تھا۔ شاہ عبدالقاد ر کے بعد شاہ حقانی کی تفسیر سنہ ١٧٩١-٩٢ میں منظر عام پر آئی اور سنہ ١٨٠١ میں حکیم اشرف نے بھی اپنے ترجمے میں شاہ رفیع الدین کے ترجمے کو اپنا یا تھا ۔ ترجمے کے اس طریقے کی خامی یہ ہے کہ اس میں ترجمہ نگار اردو میں بامحاورہ رواں ترجمہ نہیں کرسکتا اور عربی آیتوں کے متن کو رواں اردو میں اردو کے مزاج کے مطابق نہیں ڈھال سکتا۔ مثال کے طور پر مولانا محمودالحسن ایک آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں :

و لماّ رجع موسی اِلی قومہ غضبان اسفا (الاعراف :١٥٠) ترجمہ : اور جب لوٹ آیا موسی اپنی قوم میں غصہ میں بھرا ہوا افسوسناک. اس کا رواں اردو میں بامحاورہ ترجمہ اس طرح کیا جاسکتاتھا ۔ اور جب موسی اپنی قوم میں غم وغصہ سے بھرا ہوا لوٹ آیا۔

غصہ میں بھراہوا افسوسناک یہ کوئی اچھا ترجمہ نہیں ہے اور نہ اس میں ترتیب یا حسن بیان ہے جبکہ قران کریم میں کوئی لفظ یا آیت حسن ترتیب سے عاری نہیں ہے ۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیاہے “اور جب موسی اپنی قوم میں واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے” ۔

بہت سارے مرحلوں سے گزرنے کے بعد قران کا اردو ترجمہ نہایت ہی عمدہ اور عام فہم زبان میں ہونے لگا اور آج بہت سے تراجم ہیں جو نہایت ہی عمدہ اور سلیس اردو میں موجود ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll