احکام شریعت کے اقسام

pexels-thirdman-8488999
Listen to this article

شریعت اسلام کی بنیادی اساس اللہ اور رسول خدا کے احکامات پر رضامندی، اطاعت اور فرمانبرداری پر مبنی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو سنتے ہی اپنی گردن جھکا دینا اور سر تسلیم خم کر دینا دین کی بنیادی اساس ہے۔ اور قرآن کریم وسنت رسول اللہ کے احکام کو تہہ دل سے تسلیم کرنا، ان کے تمام اوامر پر عمل کرنا اور منہیات سے رک جانا اورہر فیصلے پر راضی ہونا اسلام ہے۔  شریعت اسلام میں احکام کو ترجیح اور برتری حاصل ہے چنانچہ جو شخص اللہ اور رسول کے احکام کو تسلیم نہیں کرتا اور کوئی دوسری رائے رکھتا ہے وہ منکر و کافر ہے.  احکام شریعت  یہ ہیں.

فرض

خطابِ شارع اگر کسی عمل کے  کرنے  سے  متعلق ہو اور یہ طلبِ جازم کے  ساتھ ہو تو یہ حکم فرض  کہلاۓ گا يعنى جو حکم ایسی دلیل قطعی [1] سے ثابت جس میں کوئی شُبہ نہ ہو۔ فرض وہ ہے  جس کے  کرنے  والے  کی تعریف کی جائے  اور نہ کرنے  والے  کی مذمت کی جائے  اور اس کو چھوڑنے  والا سزا اور عقاب کا مستحق ہوگا.

فرض کو باعتبار عمل دو قسموں میں منقسم کیا جا سکتا ہے: فرضِ عین اور فرضِ کفایہ۔  ان دونوں پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے اور فرضيت کے  اعتبار سے ان میں  کوئی فرق نہیں  کیوں کہ دونوں  طلبِ جازم کے  ساتھ واقع ہوتے ہیں ہیں اور دلیل قطعى سے ثابت ہوتے ہیں۔  ہان یہ بات ضرور ہے کہ ان پر عمل کرنے  کی حیثیت سے  ان میں  یہ فرق واقع ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے  کہ فرض عین میں  ہر فرد کو  ذاتی طور پر کسی عمل کو کرنے اور انجام دینے  کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جبکہ فرضِ کفایہ میں  عمومی طور پر کسی عمل کو کرنے اور انجام دینے  کا مطالبہ کیا جاتا ہے اگر مسلمانوں  سے کچھ لوگ اس کو ادا کر دیں گے تو دیگر لوگوں سے بھی وہ فرض ساقط ہو جاتا یعنی اس خطاب کا مقصد معین عمل کی انجام دہی ہے  نہ یہ کہ ہر فردِ واحد سے انجام دہی کا مطالبہ ہے۔ البتہ ثواب کے  مستحق وہی حضرات ہوں گے  جنہوں  نے  اس عمل کو ادا کیا ہے۔  اور اگر اس عمل کو کسی نے بھی انجام نہیں  دیا،  تو سب کے سب گنہگار رہیں  گے.

اگر شارع کی طرف سے  کسی عمل کو کرنے  کا مطالبہ صیغۂ امر کے ذریعہ ہو یا پھر اگر کوئی ایسا قرینہ پایا جائے  جو کسی عمل کو طلبِ جازم ہونے  کا فائدہ دے تو اس صیغۂ  طلب اور قرینۂ  جازمہ کے  باعث وہ مخصوص عمل  فرض  قرار پائے گا۔

مثال کے طور پر الله کا قول

وأقیموا الصلاۃ  (اور نماز قائم کرو) إن الصلاۃ کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا (یقیناً نماز مومنوں  پر مقررہ وقتوں  پر فرض ہے) پہلی آیت شریفہ میں أقیموا صیغۂ امر ہے اور دوسری آیت میں کتابا موقوتا صیغۂ  امر کے قائم مقام ہے  کیونکہ اس سے امر کا  معنی ظاہر ہو رہا  ہے۔  ان دونوں  آیات سے  نماز کی طلب ثابت ہو رہی ہے  مگر جس قرینہ نے  اس طلب کو جازم قرار دیا وہ یہ آیت ہے :ما سلککم فی سقر۔ قالوا لم نک من المصلین (تمہیں  دوزخ میں  کس چیز نے  ڈالا؟  وہ جواب دیں  گے  کہ ہم نمازی نہ تھے) یوں اس طلبِ جازم سے  نماز کی فرضیت سمجھی گئی ہے اور یہ یہ اس کی فرضيت کا ثبوت ہے مزید براں یہ حکم دلیل قطعى سے ثابت ہے۔

حرام

 شارع کا خطاب اگر کسی فعل کو ترک کرنے  کے  بارے  میں  ہو اور یہ خطاب صیغہ نہی کے ساتھ یا طلبِ جازم کے  ساتھ ہو، تو یہ فعل وعمل حرام یا محظور کہلائے  گا۔  ان دونوں  کا ایک ہی معنی ہے۔  حرام وہ ہے  جس کے  کرنے  والے  کی مذمت کی جائے  اور چھوڑنے  والے  کی تعریف کی جائے  یا کرنے  والا سزا کا مستحق ہو۔

شارع کے  خطاب میں  کسی عمل کو ترک کرنے  کا حکم صیغۂ  نہیکے ساتھ ہوگا یا جو کچھ اس معنی کے قائم مقام ہو۔  پھر اگر اس میں  کوئی ایسا قرینہ پایا جائے  جو عمل کے  ترک کو طلبِ جازم ہونے  کا فائدہ دے، تو اس کےباعث یہ فعل حرام قرار پائے گا۔  اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جس خطاب میں کسی کام کے چھوڑنے کا حتمی طور پر مطالبہ کیا گیاہو، اسے حرام کہتے ہیں.

مثال کے طور پر باری تعالى کا قول :

ولا تقربوا الزنا إنہ کان فاحشہ وساء سبیلا (خبردار زنا کے  قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں  کہ وہ بڑی بے  حیائی ہے  اور بہت ہی بری راہ ہے) اس آيت میں  صیغۂ  نہی لا تقربوا ہے اور اس سے  طلبِ ترک ثابت ہے، جبکہ باری تعالى کا قول إنہ کان فاحشہ وساء سبیلا اس کےطلبِ جازم ہونے  کا قرینہ ہے۔  تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ  زنا ایک حرام عمل ہے۔

واجب

خطابِ شارع اگر کسی عمل کے  کرنے  سے  متعلق ہو اور یہ طلبِ جازم کے  ساتھ ہو مگر دلیل قطعی سے ثابت نہ ہو  تو یہ حکم واجب   کہلاۓ گا. اَصلِ ثواب اور مستحقِ عذاب ہونے میں فرض و واجب میں کوئی فرق نہیں، اَلبتہ حکم کے لحاظ سے یہ دونو ں مختلف ہیں، چنانچہ فرض کے منکر کو کافر کہا جائے گا جبکہ واجب کے منکر کو کافرنہیں کہا جائے گا اور فرض چھوٹ جائے تو نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں، اَلبتہ واجب بھول کر چھوٹ جائے تو اِس کی کمی سجدۂ سہو سے پوری ہو جاتی ہے۔ واجب کی مثال  نمازوتر اور عیدین ہے.

مکروہ تحریمی

شرع كى اصطلاح میں مکروہ تحریمی  اس فعل کو کہتے ہیں جس سے لازمی طور پر رک جانے کا مطالبہ ہو اور وہ رک جانے کا مطالبہ دلیل ظنی سے ثابت ہو۔ مکروہ تحریمی فقہ اسلامی کی اصطلاح واجب کے بالعکس استمعال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر نماز عشاء کے بعد وتر کا چھوڑنا، چونکہ وتر واجب ہے تو اس کو ترک کرنا مکروہ تحریمی ہوگا. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں اس کو کبھی ترک نہ فرمایا اور اس کے چھوڑنے پر وعید سنائی ہے یہ واجب کے بالمقابل ہے اس کا منکر فاسق اور بلا عذر کرنے والا گنہگار ہے ۔  مکروہ تحریمی ہر وہ عمل ہوتا ہے جس کا ترک کرنا ضروری ہو اور اس کو کرنا لازماً ممنوع ہو اور اس کے کرنے پر عذاب کی وعید ہو اور اس کی ممانعت کے ثبوت یا لزوم پر دلالت دونوں میں سے ایک ظنی ہو اور اس کا انکار کفر نہ ہو اور اس کام کرنے والا عذاب اور ملامت کا مستحق ہو خواہ دائماً ترک کرے یا احیاناً تاہم اس کا ارتکاب گناہ صغیرہ ہے۔ اگر سنت مؤكده اگر تاکید کے ساتھ ثابت ہواور وہ سنّت قویہ ہو جیسے نماز فجر کی سنتیں تو اس کا ترک کرنا بھی مکروہ تحریمی ہے

سنّت

سنت کا لغوی معنی: سنت کا معنی عربی لغت میں طریقہء کار اور طرز عمل ہے خواہ اچھا ہو یا برا، اسی مفہوم میں نبی پاک کا یہ ارشاد گرامی ہےکہ: جس شخص نےکسی اچھے طریقہ کو رائج کیا تو اس شخص کو خود اپنے عمل کا بھی ثواب ملےگا ا ور قیامت تک جو لوگ اس پرعمل کریں گے ان کا ثواب بھی ملےگا ، اور جس شخص نے برے طریقہ کو رائج کیا تو اس پر اس کا گناہ تو ہوگا ہی اور تمام ان لوگوں کا گناہ بھی ہوگا جو قیامت تک اس پر چلیں گے ۔ فقہاء کی اصطلاح میں سنت کا مصداق ہر وہ حکم ہےجو نبی کریم سے ثابت تو ہو لیکن فر ض اور واجب کےطور پر ثابت نہ ہو، سنت کا لفظ اس معنی کے اعتبار سے پانچ فقہی احکام میں سے فرض و واجب کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات فقہاء بھی سنت کا لفظ بدعت کے مقابلہ میں استعمال کرتے ہیں ، لہٰذا فقہاء کےقول طلاق سنت و طلاق بدعت میں سنت کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہواہے.

سنّت کی دو قسمیں ہیں: سنت مؤکدہ اور سنت غیر مؤکدہ

سنت مؤکدہ: شرع اسلامی کی اصطلاح میں سنت مؤکدہ ہر وہ عمل ہے جسے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عموماً اور اکثر بطور عبادت کیا ہو اور کبھی بغیر کسی عذر کے ترک بھی کیا ہو۔ اس کا ترک کرنا گناہ اور ترک کی عادت فسق ہے  جیسے اذان، اقامت،اور باجماعت نمازک مسواک وغیرہ سنت مؤکدہ ہیں۔ اور جہاں بھی مطلق سنت بولا جائے اس سے مراد سنت مؤکدہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص ان سنتوں کا استخفاف کرے اور یہ کہے کہ میں یہ نہیں کرتا اور اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کی تکفیر کی جائے گی، نوازل میں مذکور ہے جو شخص پانچ نمازوں کی سنتیں نہ پڑھے اور ان کو حق نہ جانے اس کی تکفیر کی جائے گی اور اگر کوئی شخص ان سنتوں کو برحق جانے اور نہ پڑھے تو ایک قول کے مطابق وہ گناہگار نہیں ہوگا لیکن صحیح قول یہ ہے کہ وہ شخص گناہگار ہوگا کیونکہ اس کے ترک پر وعید ہے.

سنت غیر مؤکدہ: شرع اسلامی کی اصطلاح میں سنت غیر مؤکدہ سے مراد ایسے امور اور اعمال ہیں جن پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پابندی نہ کی ہو، یعنی کبھی کیا ہو اور کبھی نہ کیا ہو اور ترک کر دیا ہو، جیسے عصر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت، ہر ہفتے میں سوموار اور جمعرات کے روزے، وغیرہ تو یہ سب اعمال سنت غیر مؤکدہ كهلائيں گے.

مستحب 

مستحب وہ فعل اور عمل ہے جس کا ثبوت بھی ظنی ہو اور جس کی دلیل بھی ظنی ہو شرع اسلامی کی اصطلاح میں مستحب وہ ہے جس کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ صلی الله عليه وسلم کے صحابہ نے کیا ہو یا اس کو عمده اور اچھا خیال کیا ہو یا تابعین نے اس کو اچھا سمجھا ہو۔ لیکن اس کو ہمیشہ یا اکثر نہ کیا ہو بلکہ کبھی کیا ہو اور کبھی ترک بھی کیا ہو۔ اس کا کرنا ثواب ہے اور نہ کرنا گناہ نہیں۔ اس کو سنت زائدہ یا عادیہ یا سنت غیر مؤکدہ بھی کہتے ہیں اور فقہا کے نزدیک نفل بھی کہتے ہیں۔ بعض نے سنت غیر مؤکدہ اور مستحب کو الگ الگ بیان کیا ہے اور تھوڑا فرق کیا ہے.

مکروہ

شارع کا خطاب اگر کسی عمل کو ترک کرنے  کے  بارے  میں  ہو مگر یہ خطاب طلبِ جازم کے ساتھ نہ ہو تو یہ عمل مکروہ کہلائے گا۔  مکروہ وہ ہے  جس کے  چھوڑنے  والے  کی تعریف کی جائے  اور کرنے  والے  کی مذمت نہ کی جائے، یا جس عمل کا چھوڑنا اس کے کرنے  سے  بہتر ہو۔ اگر شارع کے  خطاب میں  کسی فعل کو ترک کرنے  کی طلب پائی جائے، پھر اس میں  کوئی ایسا قرینہ پایا جائے  جو اس کو طلبِ غیر جازم ہونے  کا فائدہ دے، تو اس کے  باعث یہ فعل مکروہ قرار پائے گا۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جس خطاب میں کسی کام کے چھوڑنے کا حتمی طورپر مطالبہ نہ کیا گیا ہو تو اسے مکروہ قرار دیا جاۓ گا.

مثال کے طور رسول الله صلى الله عليه وسلم كا یہ قول: من کان موسرا ولم ینکح فلیس منا (البیھقی( (وہ شخص جو مالدار ہو اور نکاح نہ کرے  تو وہ ہم میں  سے  نہیں( یہاں  صیغۂ  نہی کے  معنی میں  رسول اللہ ﷺ نے  عدم نکاح کو منع کیا ہے، البتہ آپؐ نے  بعض مالداروں  کے  نکاح نہ کرنے  پر سکوت اختیار کیا، جو اس طلب کے  غیر جازم ہونے  کا قرینہ ہے۔  لہذا مالداروں  کے  لئے  عدم نکاح مکروہ قرار پایا۔

 مباح

 شارع کا خطاب جب کسی عمل کو کرنے یا نہ کرنے  کے  بارے  میں مکلّف کو اختیار دے، تو وہ مباح کہلائے  گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس عمل کے بارے میں قران خاموش ہو وہ مباح ہوگا بلکہ اس کے مباح ہونے پر کوئی شرعی دلیل ہو۔  یہ اس لئے  کیونکہ مباح احکامِ شرعیہ میں  سے  ہے، یعنی یہ، حکمِ اباحت پر  شارع کا خطاب ہے  جو ہمیشہ دلیل سے  ثابت ہوتا ہے، کیونکہ قائدہ ہے  لا حکم قبل ورود الشرع (شرع کے  وارد ہونے  سے  پہلے  کوئی حکم نہیں)۔  لہذا یہ نہیں  کہا جا سکتا کہ ہر وہ فعل جس پر شرع خاموش ہے، یعنی جسے  نہ شرع نے  حرام قرار دیا ہو اور نہ حلال، تو وہ مباح ہے۔ اگر قران خاموش ہو تو پھر حدیث، اجماع میں دیکھا جاۓ گا اگر پھر بھی کوئی دلیل نہ ملے تو قیاس کیا جاۓ گا. تو یہ واضح ہو گیا کہ جس خطاب میں کام کے کرنے اور نہ کرنے کے درمیان اختیار دے دیا جائے اس کو مباح کہا جاۓ گا.

شریعت اسلامی کے احکام کا ماخذ و مصدر قرآن کریم اور سنت رسول ہیں۔ اور عام طور پر یہ سمجھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ قرآنِ کریم احکام شریعت کا سب سے اعلی اور برتر ماخذ ہے۔ چنانچہ اس مفروضے کا تمام مسائل اور احکام پر  یکساں اطلاق کردیا جاتا ہے۔ جب کہ فقہا کرام اور اصولیین حضرات اس بارے میں مختلف رجحانات اور نظریات رکھتے ہیں۔ اور ہر ایک کا سونچنے اور سمجھنے کا ایک مستقل موقف، جو فروع اور احکامِ شرع پر دور رس فقہی اور قانونی اثرات مرتب کرتا ہے.

[1] دلیل قطعی وہ ہے جس کاثبوت قرآن پاک یاحدیث متواترہ سے ہو۔  (فتاوی فقیہ ملت،   ۱ / ٢٠٤)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll