آیات احکام کا تعارف

pexels-abdulmeilk-aldawsari-36704
Listen to this article

قرآن کریم بے شمار اور انگنت علوم وفنون کا خزینہ ہے۔ اس کے اندر متعدد مضامین موجود ہیں جن میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔ اور یہ احکام پورے قرآن کریم میں جابجا موجود ہیں۔ احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔ مفسریں اور فقہا نے ان آیات کی مکمّل وضاحت کی ہے اور تمام احکام کو دلائل کے ساتھ ذکر کیا ہے. مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں، وہیں پر احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  کے نام سے تفسیری اور احکامی مجموعے بھی  مرتب فرماۓ ہیں۔ احکام القرآن پر مشتمل کتابوں میں قرآن کریم کی صرف اور صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ ان کے علاوہ  قصص، اخبار اور متشابهات وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز اور ترک کر دیا جاتا ہے۔  آیات احکام سے مراد وہ آیات ہیں جو شرعى احکام کی وضاحت اور ان کے دلائل کی طرف اشارہ کرتی ہیں؛ چاہے وہ اعتقادي احکام ہوں، یا عملى اور اخلاقی. احکام القرآن قرآن کریم کی ان آیات کی تفسیر کو کہا جاتاہے جو مسائل حلت وحرمت پر مشتمل ہوتے ہیں۔

اسلامی شریعت میں احکام کے استنباط کے چار بنیادی ذرائع اور مصادر ہیں جن سے کوئی فقیہ، عالم یا مجتہد احکام شرعیہ کو اخذ کرتا ہے. اور یہ چار بنیادی ذرائع اور مصادر قرآن حکیم، سنت رسول، اجماع امّت اور قیاس ہیں.

قرآن کریم احکام اسلامی کا سب سے مقدم اور برتر ماخذ ہے. قرآن حکیم کی تعلیمات اور اس کے احکامات پر عمل کرنا لازم اور ضروری ہے. یہ الہامی کتاب ہے اور منزل من الله ہے یہ ایک مکمل اور جامع کتابِ ہدایت ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کے متعلق رہنمائی موجود ہے۔

سنت رسول قرآنِ کریم کے بعد احکام اسلامی کا دوسرا بنیادی ماخذ  اور مصدر ہے۔ اس کا اطلاق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال (جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا)، افعال (جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا) اور ہر اس عمل اور کام پر ہوتا ہے جس کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی۔

اجماع امّت قرآن کریم اور سنت رسول کے بعد احکام اسلامی کا تیسرا بنیادی مصدر اور ماخذ ہے۔ اجماع قرآن و سنت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر اور ان سے صرف نظر کر کے نہیں بلکہ ان سے رہنمائی لے کر کیا جاتا ہے اور جب اجماع امّت کو قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ مضبوط کر دیا جائے تو یہ قطعی حکم بن جاتا ہے جس پر عمل کرنا لازم ہو جاتا ہے۔

قیاس قرآن کریم، سنت رسول اور اجماع امّت کے بعد احکام اسلامی کا چوتھا بنیادی مصدر اور ماخذ ہے۔  جب کسی ایک شے کے اچھے اور برے دونوں پہلو سامنے رکھ کر ان کا موازنہ کتاب الله اور سنت میں موجود کسی امر شرعی کے ساتھ کیا جائے اور پھر کسی نتیجہ پر پہنچا جائے تو یہ عمل قیاس کہلاتا ہے. اس طریقۂ کار میں کسی علت یا سبب کو بنیاد بنا کر کسی سابقہ حکم کی روشنی میں نئے مسائل کا حل نکالا جاتا ہے۔

آیات احکام صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ان کا لغوى اور اصطلاحی مفہوم کو واضح کر دیا جاۓ تاکہ بات پوری طرح سے واضح اور ظاہر ہو جاۓ.

احکام یہ حکم کی جمع ہے اور یہ حکم یحکم سے ماخوز ہے اس کا معنى منع كرنا اور روکنا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے احكم زيد خالداً من كذا وكذا يعنى زيد نے خالد کو فلاں فلاں چیز سے منع کیا اور روکا. اور شرعى اصطلاح میں کسی چیز کو ثابت کرنا یا اس سے منع کرنے کو احکام کہتے ہیں بالفاظ دیگر مکلفین کے افعال سے متعلق اللہ تعالیٰ کے خطاب کے تقاضے اور اس کے اوامر ونواہی کو حکم کہتے ہیں اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے خطاب الشارع المتعلق بأفعال العباد بالإقتضاء أو بالتخییرأو بالوضع يعنى بندوں  کے  افعال سے  متعلق شارع کا وہ خطاب جو طلب یا اختیار دینے  یا وضع کے  ساتھ کیا گیا ہے.

اگرچہ شارع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے  لیکن پھر بھی خطاب اللہ کے  بجائے  خطابِ شارع اس وجہ سے  کہا گیا ہے  کہ کہیں  یہ وہم اور گمان نہ ہوجاۓ کہ اس سے  مراد فقط قرآن ہے کیوں کہ سنت بھی وحی الہی ہے  اس لئے  وہ بھی خطابِ شارع میں  شامل ہے  اور اجماعِ صحابہؓ بھی اس میں شامل ہے کیوں کہ اس سے  مراد سنت سے  کسی دلیل کا انکشاف ہے۔  مکلف کے  بجائے  بندہ کا ذکر اس وجہ سے  کیا گیا ہے کیوں کہ اس میں  بچے  اور مجنوں سے  متعلق احکام بھی شامل ہیں۔

جہاں تک خطاب شارع کی بات ہے تو اس کو دو حصّوں میں منقسم کیا جا سکتا ہے  خطابِ تکلیف اور خطابِ وضع. بندوں  کے  افعال سے  متعلق شارع کا وہ خطاب جو طلب یا اختیار دینے  کے  بارے  میں  ہو اس کو  ’’خطابِ تکلیف‘‘ کے نام سے  موسوم کیا جاتا ہے  اور بندوں  کے  افعال سے  متعلق شارع کا وہ خطاب جو وضع کے  بارے  میں  ہو  اس کو  ’’خطابِ وضع‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ اسباب اور موانع جن کو شارع نے وضع کیا ہے، جن کی موجودگی میں احکام شریعت نفی یا اثبات کے اعتبار سے پہچانے جاتے ہیں ان کو خطابِ وضع کہتے ہیں۔ خطابِ تکلیف اور خطابِ وضع فرق یہ ہے کہ احکام تکلیفی اپنے مخاطب کو اپنے تقاضے کے مطابق عمل کے کرنے یا نہ کرنے کا مکلف ٹھہراتا ہے جبکہ احکام وضعی کسی عمل کو کرنے یا نہ کرنے کے حوالہ سے کچھ علامتیں، شرائط یا اوصاف مقرر کرتا ہے۔

خطابِ وضع کی بہت ساری قسمیں ہیں کیوں کہ اس میں یا تو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ ہوتاہے اور ان دونوں صورتوں (کام کا کرنا یا نہ کرنا) یا تو حتمی اور لازمی ہوتاہے یا حتمی اور لازمی  نہیں ہوتا۔ یاپھر اس کام کے کرنے اور نہ کرنے کے درمیان اختیار ہوتا ہے۔

بندوں کے اعمال اور افعال سے متعلق احکام کی مختلف اقسام ہیں جن پر بندے عمل کرتے ہیں اور جن کا جاننا اور سمجھنا لازمی اور ضروری ہے کیوں کہ علم کی روشنی کے بغیر جہل کی تاریکی میں رضائے الہی کی تلاش مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ شعبہ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کا تعلق مختلف افعال واعمال سے پڑتا ہے۔ اس لیے اعمال کی نوعیت اور ان کی حیثیت کو جاننا ضروری ہے تاکہ بندے عمل کی صحیح یا غلط سمت کا تعین کرکے اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرسکے اور اس کی ناراضگی اور خفگی سے بچ سکے۔

ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ احکام الہی پر عمل کرے کیوں کہ ہر ایک فرد نے عھد الست میں یہ عہد کر کے آیا ہے کہ وہ احکام الہی پر عمل پیرا ہوگا. اور جس شخص کی زندگی احکام شریعت سے ہٹی ہوئی ہو وہ در حقیقت زندہ ہی نہیں ہے بلکہ مردہ کے مشابہ ہے، اس لئے کہ ایسے لوگوں کے اندر اپنے فرائض کا احساس نہیں ہوتا، اور نہ ہی ان کو اس بات کا شعور ہے کہ انہیں کس چیز کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اور اسی وجہ سے اللہ تعالی نے ایمان و ہدایت والوں کو سننے اور دیکھنے والوں سے تشبیہ دی ہے، اور شریعت سے ہٹے ہوئے لوگوں کو اندھے اور گونگے سے تشبیہ دی ہے، شریعت پر عمل کرنے والوں کو زندہ، اور شریعت سے روگردانی کرنے والوں کو مردوں سے تشبیہ دی ہے ۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی شریعت انسان کی حقيقی زندگی، اس کی سعادت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll